نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی


09-04-2016 | سیمابؔ اکبرآبادی

نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی

کسی کی آخری ہچکی کسی کی دل لگی ہوگی

تمہیں دانستہ محفل میں جو دیکھا ہوتو مجرم ہوں

نظر آخر نظر ہے ۔۔ بے ارادہ اٹھ گئی ہوگی

مزہ آئے گا محشر میں کچھ سننے سنانے کا

زباں ہوگی ہماری اور کہانی آپ کی ہوگی

سرِ محفل بتا دوں گا ۔۔ سرِ محشر دکھا دوں گا

ہمارے ساتھ تم ہوں گے یہ دنیا دیکھتی ہوگی

 

تعجب کیا لگی جو آگ ۔۔۔ ائے سیمابؔ سینے میں

ہزاروں دل میں انگارے بھرے تھے لگ گئی ہوگی




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
چمک جگنو کی برقِ بے اماں معلوم ہوتی ہے
نسیمِ صبح گلشن میں گلوں سے کھیلتی ہوگی
سلام ائے صبحِ کعبہ السلام ائے شامِ بت خانہ