ہری ٹہنیوں کے نگر پر گئے


22-03-2016 | منیرؔ نیازی

ہری ٹہنیوں کے نگر پر گئے

ہوا کے پرندے شجر پر گئے

اک آسیب لرزاں مکانوں میں ہے

مکیں اس جگہ کے ۔۔ سفر پر گئے

بہت دھند ہے اور وہ نقشِ قدم 

خدا جانے کس رہگزر پر گئے

کہ جیسے ابھی تھا ، یہاں پر کوئی

گماں کیسے ۔۔ خواب سحر پر گئے

کئی رنگ پیدا ہوئے برق سے

کئی عکس دیوار و در پر گئے

وہی حسنِ دیوانہ گر ۔۔ ہر طرف

سبھی رخ ۔۔ اسی کے اثر پر گئے

 

منیرؔ آج اتنی اداسی ہے کیوں ؟

یہ کیا سائے سے بحر و بر پر گئے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
اُسی کا حکم جاری ہے زمینوں آسمانوں میں
کوئی ہے شیشہ و شراب میں مست
ہری ٹہنیوں کے نگر پر گئے