نہیں جاتی کہاں تک فکرِ انسانی نہیں جاتی


21-03-2016 | جگرؔمرادآبادی

نہیں جاتی ۔۔ کہاں تک فکرِ انسانی نہیں جاتی

مگر اپنی حقیقت آپ ۔۔۔ پہچانی نہیں جاتی

طبیعت آ کے پھر ۔۔ تا حدِّ امکانی نہیں جاتی

نہیں جاتی ، نہیں جاتی ، یہ دیوانی نہیں جاتی

کسی صورت ۔۔۔ نمودِ سازِ پنہانی نہیں جاتی

بجھا جاتا ہے دل چہرے کی تابانی نہیں جاتی

نگاہوں کو خزاں نا آشنا ہونا ۔۔ تو آ جائے

چمن جب تک چمن ہے جلوہ سامانی نہیں جاتی

مزاجِ اہلِ دل بے کیف و مستی رہ نہیں سکتا

کہ جیسے نکہتِ گل سے ۔۔ پریشانی نہیں جاتی

صداقت ہو تو دل سینوں سے کھنچنے لگتے ہیں واعظ

حقیقت خود کو منوا لیتی ہے ، مانی نہیں جاتی

نگاہِ شوق کی گستاخیاں ۔۔۔ توبہ ارے توبہ

تلافی لاکھ کرتا ہوں ۔۔۔  پشیمانی نہیں جاتی

وہ یوں دل سے گذرتے ہیں کہ آہٹ تک نہیں ہوتی

وہ یوں آواز دیتے ہیں کہ پہچانی نہیں جاتی

چلے جاتے ہیں بڑھ بڑھ کر مٹے جاتے ہیں گر گر کر

حضورِ شمع ۔۔۔ پروانوں کی نادانی نہیں جاتی

محبت میں اک ایسا وقت بھی دل پر گذرتا ہے

کہ آنسو خشک ہوجاتے ہیں طغیانی نہیں جاتی

 

جگرؔ وہ بھی زسرتاپا محبت ہی محبت ہیں

مگر اُن کی محبت صاف پہچانی نہیں جاتی




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کام آخر جذبۂ بے اختیار آ ہی گیا
نہیں جاتی کہاں تک فکرِ انسانی نہیں جاتی
کسی صورت نمودِ سوزِ پنہانی نہیں جاتی
ہزاروں قربتوں پر یوں مرا مہجور ہوجانا
ساقی کی ہر نگاہ پہ بل کھا کے پی گیا