رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح

غزل| بیخودؔ دہلوی انتخاب| بزم سخن

رات بھر گردش تھی ان کے پاسبانوں کی طرح
پاؤں میں چکر تھا میرے آسمانوں کی طرح
دل میں ہیں لیکن انہیں دل سے غرض مطلب نہیں
اپنے گھر میں رہتے ہیں وہ میہمانوں کی طرح
دل کے دینے کا کہیں چرچا نہ کرنا دیکھنا
لے کے دل سمجھا رہے ہیں مہربانوں کی طرح
نام پر مرنے کے مرتے ہیں مگر مرتے نہیں
کون جی سکتا ہے ہم سے سخت جانوں کی طرح

دل جو کچھ کہتا ہے کرتے ہیں وہی بیخودؔ مگر
سن لیا کرتے ہیں سب کی بے زبانوں کی طرح


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام