سورج سروں پہ آگ اگلتا دکھائی دے

غزل| خورشید احمد جامیؔ انتخاب| بزم سخن

سورج سروں پہ آگ اگلتا دکھائی دے
مجھ کو یہ شہر آج پگھلتا دکھائی دے
وہ سامنے رکھا ہے کوئی خط کھلا ہوا
وہ دور کوئی چاند نکلتا دکھائی دے
کس کے قریب جائیے کس کو پکارئیے
ہر شخص اپنا روپ بدلتا دکھائی دے
میں اس ندی کے پار اتر جاؤں گا مگر
آگے کوئی چراغ تو جلتا دکھائی دے
یہ ریگ زارِ غم یہ خیالوں کی تیز دھوپ
جو زد میں آ گیا وہ پگھلتا دکھائی دے
گھر ہو کہ راستہ ہو اک آسیب ہر جگہ
تنہائیوں کا زہر اگلتا دکھائی دے
آواز دے کہ رات کے اونچے پہاڑ سے
خوابوں کا پاؤں آج پھسلتا دکھائی دے
جامیؔ مری نظر میں زمانہ ہے اس طرح
پھولوں کو جیسے کوئی مسلتا دکھائی دے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام