ستارے جام بنتے ہیں فضا پیمانہ ہوتی ہے

غزل| ساغرؔ نظامی انتخاب| بزم سخن

ستارے جام بنتے ہیں فضا پیمانہ ہوتی ہے
ترے آۓ ہی سُونی رہ گذر میخانہ ہوتی ہے
کہاں تک بچ سکو گے شعلۂ جذبِ محبت سے
بھڑک کر شمع آخر عشرتِ پروانہ ہوتی ہے
ترے اسرار کے چرچے فقط رہتے ہیں پردوں میں
ہماری بات ہر محفل میں اک افسانہ ہوتی ہے
کوئی اس وقت دیکھے میرے دل کی خلد آرائی
یہ بستی مٹ مٹا کر جب کبھی ویرانہ ہوتی ہے
بزعمِ نا رسائی تیری محفل میں فقط ہم ہوں
یہ ہوتی ہے تمنا اور بے تابانہ ہوتی ہے
یہ چھالے ہم سفر ہیں اور نہ کانٹے راہ کے ساتھی
جنوں کی یہ بھی اک منزل دلِ دیوانہ ہوتی ہے

کبھی اس روپ میں بھی موسمِ گل مسکراتا ہے
کہ ہر تازہ کلی اک سبزۂ بیگانہ ہوتی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام