جب دل خون ہوا آنکھ میں آنسو آئے

غزل| سعیدہ نزہت صدیقی انتخاب| بزم سخن

جب دل خون ہوا آنکھ میں آنسو آئے
ایک حسرت رہی ایسے میں کبھی تو آئے
موسمِ گل ہو تو گلزاروں میں مجھ کو ڈھونڈے
چاندنی میں مجھے ملنے وہ لبِ جو آئے
كيسے اس دل کا ہر اک رنگ اسےدکھلاؤں
اسمِ اعظم کوئی سیکھوں کوئی جادو آئے
اس کے ہونٹوں کے تصور میں کھلے سرخ گلاب
اس کی آنکھوں کی قسم کھانے کو آہو آئے
پردۂ چشم پہ بس ایک ہی تصویر کا عکس
ایک منظر ہی نظر مجھ کو تو ہر سو آئے
منزل شب میں ہے اب میرا مسافر مرا دل
اب ستارہ کوئی چمکے کوئی جگنو آئے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام