وصل تیرے گیسوؤں کی بدلیاں چھانے کا نام

رشیدؔ کوثر فاروقی
وصل تیرے گیسوؤں کی بدلیاں چھانے کا نام
ہجر تیری یاد کے تارے نکل آنے کا نام
اُس نے دل بہلا لیا ہے بندشوں کے باوجود
لکھ کے اُنگلی سے ہوا میں اپنے دیوانے کا نام
زندگی کیا ہے مسلسل گریۂ شوقِ وصال
موت کیا ہے روتے روتے آنکھ لگ جانے کا نام
پی کے تھوڑی سی بھک جاتے ہیں کچھ کم ظرف لوگ
مفت میں بدنام ہو جاتا ہے میخانے کا نام
مسکرا کر مرنے والا مرتے مرتے جی اٹھا
زندگی ہے موت سے آگے نکل جانے کا نام
دفن ہے تاریخ کی قبروں میں قوموں کا عروج
دورِ مے کے ساتھ ہی چلتا ہے میخانے کا نام
آلِ ابراہیم نے آخر ڈبو کر رکھ دیا
ابنِ آذر نے اچھالا تھا خدا خانے کا نام
اُف ری عیّارانِ عالم کی کرم فرمائیاں
خون دیتا ہے حرم ، ہوتا ہے بت خانے کا نام


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام