یہ کہاں گردشِ ایام کھپی جاتی ہے

رشیدؔ کوثر فاروقی
یہ کہاں گردشِ ایام کھپی جاتی ہے
دھوپ پھیلی ہے مگر رات ہوئی جاتی ہے
اللہ! اللہ! محبت میں بصیرت کا مقام
دل کی آواز نگاہوں میں گھُلی جاتی ہے
اپنی مرضی کا اُنہیں جب نہیں ملتا ہے جواب
دوسرے رُخ سے وہی بات کہی جاتی ہے
دل سے پوچھا کہ سکوں کیا ہے تو آواز آئی
یہ وہ دولت ہے جو خود دار کو دی جاتی ہے
اہلِ دنیا کرم آمادہ ہیں یارب فریاد
عزتِ نفس فراموش ہوئی جاتی ہے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام