اے کہ بخشا ہے تجھے اللہ نے قلبِ سلیم

ماہرؔ القادری
اے کہ بخشا ہے تجھے اللہ نے قلبِ سلیم
سن کہ پھر کرتا ہوں شرحِِ آیۂ ذبحِ عظیم
زندگی ہے راستہ میں حق کے مٹ جانے کا نام
ہے شہیدانِ وفا پر آتشِ دوزخ حرام
ملتِ بیضا کی عظمت صرف قربانی میں ہے
لذتِ آبِ بقا تلوار کے پانی میں ہے
فطرتِ مسلم کو ہے ہر غیرِ حق سے دشمنی
پھول کی پتی ہو اس میں یا کہ ہیرے کی کنی
غیرِ حق کے سامنے مسلم کا سر جھکتا نہیں
یہ وہ طوفاں ہے پہاڑوں سے بھی جو رکتا نہیں
عظمتِ انسانیت حق کی رضا جوئی میں ہے
حق پرستی حق شناسی اور حق گوئی میں ہے
دے نہ یوں اسلام کو لفظی فریبِ رنگ و بو
یہ گلستان چاہتا ہے تیری شہ رگ کا لہو
تشنگی کو قطرۂ شبنم بجھا سکتا نہیں
صرف اقرارِ زبانی کام آ سکتا نہیں
جانتا ہے؟ بارگاہِ حق کے آئین و اصول
دل کے ٹکڑوں کی یہاں پر نذر ہوتی ہے قبول
عشق ہی کی ہے ضرورت حسن کی سرکار میں
یعنی ہے جنسِ وفا کی قدر اس بازار میں
سوزِ ابراہیمؑ کا جلتا ہے اس گھر میں چراغ
خونِ اسمعیلؑ ہی سے لہلہاتا ہے یہ باغ
طائف و بدر و اُحد کے معرکوں کے ساز پر
جھومتے ہیں اس فضائے قدس کے رنگیں شجر
بام و در پر جو نظر آتی ہیں یاں رنگینیاں
نورِ عینِ مصطفیؐ کے خون کی ہیں جھلکیاں
چھڑ رہا ہے اکبرؓ نوخیز کی سسکی کا ساز
پڑھ رہا ہے نزع کے عالم میں بھی کوئی نماز
ابرِ نیساں ہے یہاں پر خود نچکاں حبلِ ورید
بلبلیں گاتی ہے یاں افسانۂ ٹیپو شہیدؒ
انورِؒ غازی کے زخموں کے یہاں فانوس ہیں
یاں کے رہنے والے دردِ عشق سے مانوس ہیں
یاں کے پودوں میں نسیم آہ کرتی ہے طول
اس جگہ زنداں کے آلام و مصائب کے ہیں پھول
ساکنانِ عرشِ اعلیٰ آ کے کرتے ہیں وضو
یاں کے فواروں سے جاری ہے شہیدوں کا لہو
عیدِ قرباں کے ترانے گائے جاتے ہیں یہاں
سر فروشانِ محبت لائے جاتے ہیں یہاں
آ کہ ہے بے تاب یہ رنگیں فضا تیرے لئے
منتظر ہے رحمتِ ربِّ عُلا تیرے لئے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام