طاقوں میں سجایا جاتا ہوں


25-06-2015 | ماہرؔ القادری

طاقوں میں سجایا جاتا ہوں... آنکھوں سے لگایا جاتا ہوں
تعویذ بنایا جاتا ہوں........ دھو دھو کے پلایا جاتا ہوں


جزدان حریر و ریشم کے . اور پھول ستارے چاندی کے
پھر عطر کی بارش ہوتی ہے... خوشبو میں بسایا جاتا ہوں


جیسے کسی طوطا و مینا کو..... کچھ بول سکھائے جاتے ہیں
اس طرح پڑھایا جاتا ہوں.... اس طرح سکھایا جاتا ہوں


جب قول و قسم لینے کے لئے.... تکرار کی نوبت آتی ہے
پھر میری ضرورت پڑتی ہے... ہاتھوں پہ اُٹھایا جاتا ہوں


دل سوز سے خالی رہتے ہیں آنکھیں ہیں کہ نم ہوتی نہیں
کہنے کو میں اک اک جلسے...پڑھ پڑھ کے سنایا جاتا ہوں


نیکی پہ بدی کا غلبہ ہے......سچائی سے بڑھ کر دھوکا ہے
اک بار ہنسایا جاتا ہوں......... سو بار رلایا جاتا ہوں


یہ میری عقیدت کے دعوے،..قانون پہ راضی غیروں کے
یوں بھی مجھے رسوا کرتے... ہیں ایسے بھی ستایا جاتا ہوں


کس بزم میں میرا ذکر نہیں،کس عرس میں میری دھوم نہیں
پھر بھی میں اکیلا رہتا ہوں...... مجھ سا بھی کوئی مظلوم نہیں




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے، کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
جب غم کی لطافت بڑھتی ہے جب درد گوارا ہوتا ہے
کس بیم و رجا کے عالم میں طیبہ کی زیارت ہوتی ہے
کسی کی بے رخی کا غم نہیں ہے
جلوے تمام صرفِ نظر ہو کے رہ گئے