جھونکے کچھ آ گئے تھے نسیمِ بہار کے


22-07-2016 | ماہرؔ القادری

جھونکے کچھ آ گئے تھے نسیمِ بہار کے

چلتے بنے ، دبی ہوئی چوٹیں اُبھار کے

کچھ اور ہی تھے اب کے تقاضے بہار کے

ہم رہ گئے ہیں پھر بھی طبیعت کو مار کے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
کچھ اس طرح نگاہ سے اظہار کر گئے
کس قیامت کی گھٹا چھائی ہے
کچھ کفر نے فتنے پھیلائے، کچھ ظلم نے شعلے بھڑکائے
احساسِ خوشی مٹ جاتا ہے افسردہ طبیعت ہوتی ہے
جھونکے کچھ آ گئے تھے نسیمِ بہار کے