ائے گمشدہ چراغ ترے نام اک غزل

غزل| لیاقت علی عاصمؔ انتخاب| بزم سخن

ائے گمشدہ چراغ ترے نام اک غزل
آ میں تجھے سناؤں سرِ شام ایک غزل
تم تو چلے گئے مگر اس گھر کی خامشی
سنتی ہے مجھ سے آ کے لبِ بام اک غزل
چہرے پہ اُس کے بولتی آنکھیں سسکتے ہونٹ
کاغذ پہ جیسے گم شدہ گم نام اک غزل
تم خوب اُٹھ کہ چل دیئے ہنگامِ مے کشی
اب تک ترس رہی ہے تہِ جام اک غزل
کتنے دکھوں میں ڈھونڈنا پڑتا ہے ایک شخص
کتنی مسافتوں کا ہے انعام اک غزل
عاجز ہوا جو شوقِ وصالِ غزال سے
کہنے لگا میں ہجر کے ہنگام اک غزل
جو دیکھ لے اُسی کا سراپا دکھائی دے
عاصمؔ ! کہو وہ آئینۂ اندام اک غزل


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام