صفحۂ وقت پہ تحریر بدل جاتی ہے


14-07-2019 | محسؔن نقوی

صفحۂ وقت پہ تحریر بدل جاتی ہے

آیتِ ہجر پہ تفسیر بدل جاتی ہے

ایسا اک وقت بھی آتا ہے میری نیند پہ جب

خواب سے پہلے ہی تعبیر بدل جاتی ہے

اب تو ہر لمحہ میرا قید میں کٹ جاتا ہے

فرق صرف اتنا ہے زنجیر بدل جاتی ہے

وقت ہر بات کو محفوظ تو کر لیتا ہے

ہاں مگر بات کی تاثیر بدل جاتی ہے

پڑھتا رہتا ہوں میں ہاتھوں کی لکیریں یوں بھی

میں یہ سنتا تھا کہ تقدیر بدل جاتی ہے

ایک مدت سے اسے دیکھ رہا ہوں محسنؔ

چھونا چاہوں تو وہ تصویر بدل جاتی ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے
صفحۂ وقت پہ تحریر بدل جاتی ہے
زندگی بھر عذاب سہنے کو
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
بھری بہار میں اب کے عجیب پھول کھلے