ہوا زمانہ کہ اُس نے ہم کو نہ بھول کر بھی سلام بھیجا


13-07-2019 | اخترؔ شیرانی

ہوا زمانہ کہ اُس نے ہم کو نہ بھول کر بھی سلام بھیجا

مزاج پوچھا ، نہ حال لکھا ، نہ خط ، نہ کوئی پیام بھیجا

نہیں ہے توبہ کا اعتبار اب ، نہیں ہے کچھ دل پہ اختیار اب

بلا رہی ہے ہمیں بہار اب ، گھٹاؤں نے بھی پیام بھیجا

یہ بے بسی کیسی بے بسی ہے کہ رک سکے وہ نہ تا بہ آخر

نگاہِ غم گیں نے تا بہ آخر پیامِ شوقِ تمام بھیجا

بہارِ امید چھا رہی ہے ، بہشتِ دل لہلہا رہی ہے

یہ پھول کیوں اُس نے خط میں رکھ کر ہمیں بایں اہتمام بھیجا

 

نگاہِ اخترؔ نے کہہ دیا کیا کہ جا چھپا ساقیٔ دلارا

نہ بادۂ مشک بو عطا کی ، نہ ساغرِ لالہ فام بھیجا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
جھوم کر بدلی اٹھی اور چھا گئی
عشق کا موسم غم کی ہوائیں اف ری جوانی ہائے زمانے
ہوا زمانہ کہ اُس نے ہم کو نہ بھول کر بھی سلام بھیجا
رات بھر اُن کا تصوّر دل کو تڑپاتا رہا
مری آنکھوں سے ظاہر خوں فشانی اب بھی ہوتی ہے