زندگی بھر عذاب سہنے کو


26-11-2015 | محسؔن نقوی

زندگی بھر عذاب سہنے کو

دِل ملا ہے اداس رہنے کو

ایک "چپ" کے ہزار ہا مفہوم

اور کیا رہ گیا ہے کہنے کو؟

چاند جس کی جبیں پہ جچتا ہو

وہ ترستی ہے ایک " گہنے " کو

آسماں سے اُتر پڑا سورج

چلتے دریا کے ساتھ بہنے کو

 

گھر میں تم بھی رہا کرو محسنؔ

گھر بناتے ہیں لوگ رہنے کو




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
چہرے پڑھتا آنکھيں لکھتا رہتا ہوں
صفحۂ وقت پہ تحریر بدل جاتی ہے
میں خود زمیں ہوں مگر ظرف آسمان کا ہے
زمانہ بھر کی نگاہوں میں جو خدا سا لگے
قتل چھپتے تھے کبھی سنگ کی دیوار کے بیچ