جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے


30-06-2019 | شاعؔر لکھنوی

جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے

وہ نظر نظر سے گلے ملے تو بجھے چراغ بھی جل گئے

یہ شکستِ دید کی کروٹیں بھی بڑی لطیف و جمیل تھیں

میں نظر جھکا کے تڑپ گیا وہ نظر بچا کے نکل گئے

نہ خزاں میں ہے کوئی تیرگی نہ بہار میں کوئی روشنی

یہ نظر نظر کے چراغ ہیں کہیں بجھ گئے کہیں جل گئے

جو سنبھل سنبھل کے بہک گئے وہ فریب خوردۂ راہ تھے

وہ مقامِ عشق کو پا گئے جو بہک بہک کے سنبھل گئے

جو کھلے ہوئے ہیں روش روش وہ ہزار حسنِ چمن سہی

مگر ان گلوں کا جواب کیا جو قدم قدم پہ کچل گئے

نہ ہے شاعرؔ اب غمِ نو بہ نو ، نہ وہ داغِ دل نہ وہ آرزو

جنہیں اعتمادِ بہار ہے وہی پھول رنگ بدل گئے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
جو تھکے تھکے سے تھے حوصلے وہ شباب بن کے مچل گئے