جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں


01-07-2019 | دلاور حسین فگارؔ

جادۂ فن میں بڑے سخت مقام آتے ہیں

مر کے رہ جاتا ہے فن کار امر ہونے تک

کتنے غالبؔ تھے جو پیدا ہوئے اور مر بھی گئے

قدر دانوں کو تخلص کی خبر ہونے تک

کتنے اقبالؔ رہِ فکر میں اٹھے لیکن

راستہ بھول گئے ختم سفر ہونے تک

کتنے شبیر حسن خاں نہ بنے جوشؔ کبھی

مر گئے کتنے سکندر بھی جگرؔ ہونے تک

فیضؔ کا رنگ بھی اشعار میں آ سکتا تھا

انگلیاں ساتھ تو دیں خون میں تر ہونے تک

چند زروں ہی کو ملتی ہے ضیائے خورشید

چند تارے ہی چمکتے ہیں سحر ہونے تک

 

 

دلِ شاعر پہ کچھ ایسی ہی گزرتی ہے فگارؔ

جو کسی قطرے پہ گزرے ہے گہر ہونے تک




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
سکتہ تھا ایک شاعرِ اعظم کے شعر میں
شاعر میں اور شعر میں اک بحث چھڑ گئی
حاکمِ رشوت ستاں فکرِ گرفتاری نہ کر
سگنل پہ روکا ، روک کے بولا کوئی گدا
ہم بارہویں کلاس میں جب اسٹوڈنٹ تھے