وقت آخر ٹہر گیا کیسے؟


05-06-2019 | ابن حسؔن بھٹکلی

وقت آخر ٹہر گیا کیسے؟

کون جادو یہ کر گیا کیسے؟

عشق کیا ہے میں جانتا ہی نہیں

میرے دل میں اتر گیا کیسے؟

زخم گہرا ہے پهر بھی حد میں ہے

درد حد سے گزر گیا کیسے؟

میں نے اتنا کبھی نہیں سوچا

ذہن یادوں سے بهر گیا کیسے؟

میں تو وعدہ خلاف ہوں مانا

تو زباں سے مکر گیا کیسے؟

میرے ہونٹوں پہ اب دعا بهی نہیں

پهر مقدر سنور گیا کیسے؟

 

دل تو ابن حسنؔ بہادر تها

چند خوابوں سے ڈر گیا کیسے؟




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
مضطرب ہوں ، قرار دے اللہ
کہاں میں بندۂ عاجز کہاں حمد و ثنا تیری
قناعت کی نظر سے بچ کے جب خواہش نکلتی ہے
سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے
عید قرباں اصل میں ایثار ابراہیم ہے