جانے یہ محّبت کیا شے تھی تڑپا بھی گئی تھپکا بھی گئی


13-05-2019 | احمد ندیمؔ قاسمی

جانے یہ محّبت کیا شے تھی ، تڑپا بھی گئی ، تھپکا بھی گئی

ایک آدھ اُفق دھندلا بھی گئی ، آفاق نئے چمکا بھی گئی

کیوں کہتے ہو قیس اکیلا تھا جب قریۂ  ناپرساں سے گیا

ساتھ اس کے ردائے لیلیٰ کی خوشبو بھی اور ہوا بھی گئی

جدّت سے مجھے انکار نہیں یاروں سے مگر یہ پوچھنا ہے

یہ کون سا ہے معیارِ وفا ، اُمید گئی تو وفا بھی گئی

یہ صدی بظاہر بُری سہی یہ صدی کچھ ایسی بُری نہ تھی

گو اس نے بجھائے چراغ کئی ، قندیلیں نئی جلا بھی گئی

کچھ خال و خد پہچانو تو ، یہ لو کا تھپیڑا وہی نہ ہو

اِک موج ہوائے گلشن کی کہتے ہیں سوئے صحرا بھی گئی

رحمت پہ ندیمؔ نہ طنز کرو ، کھیتوں کو خشک ہی رہنے دو

اب سوئے فلک کیا دیکھتے ہو، بدلی تو برس برسا بھی گئی




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثناخواں نہ ہوا
جانے یہ محّبت کیا شے تھی تڑپا بھی گئی تھپکا بھی گئی
عشق کرنے کا یہی وقت ہے ، ائے انسانو
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
کسے معلوم تھا اس شئے کی تجھ میں بھی کمی ہوگی