ہجر کی رات کا انجام تو پیارا نکلا


01-04-2016 | احمد ندیمؔ قاسمی

ہجر کی رات کا ۔۔ انجام تو ۔۔ پیارا نکلا

وہی سورج ، کہ جو ڈوبا تھا ، دوبارہ نکلا

ظلمتِ شب نے ۔۔ کیا دن کا ۔۔ تصور ممکن

یہ اندھیرا تو ۔۔۔۔ اجالے کا ۔۔۔ سہارا  نکلا

تُو ۔۔ کہ تھا بزم میں تصویر کم آمیزی کی

میری تنہائی میں کیوں ۔۔۔ انجمن آرا نکلا

وقت نے جب بھی مرے ہاتھ سے مشعل چھینی

ذہن میں ۔۔۔ تیرے تصور کا ۔۔۔ ستارا نکلا

میں ترے قرب سے ڈرتاہوں کہ توزندہ رہے

میں سمندر میں ۔۔ جب اترا تو ۔۔ کنارا نکلا

اپنی ہستی کو ۔۔۔ مٹانے کا نتیجہ ۔۔۔ یہ ہے

پھول توڑا تو ۔۔ مرے خون کا ۔۔ دھارا نکلا

نفسی نفسی بھی وہی ، سچ کی دہائی بھی وہی

تیرا محشر ۔۔۔۔ مرا مانوس ۔۔۔ نظارا نکلا

اب تو پتھر کے زمانے سے نکل آؤ ۔۔ ندیمؔ

اب تو سوچوں کے تصادم سے ۔۔ شرارا نکلا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
جانے یہ محّبت کیا شے تھی تڑپا بھی گئی تھپکا بھی گئی
کون کہتا ہے کہ موت آئی تو مر جاؤں گا
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
کتنے نالے تھے جو شرمندۂ تاثیر ہوئے
کسے معلوم تھا اس شئے کی تجھ میں بھی کمی ہوگی