یادیں ہیں اپنے شہر کی اہلِ سفر کے ساتھ

غزل| شکیبؔ جلالی انتخاب| بزم سخن

یادیں ہیں اپنے شہر کی اہلِ سفر کے ساتھ
صحرا میں لوگ آئے ہیں دیوار و در کے ساتھ
منظر کو دیکھ کر پسِ منظر بھی دیکھئے
بستی نئی بسی ہے پرانے کھنڈر کے ساتھ
سائے میں جان پڑ گئی دیکھا جو غور سے
مخصوص یہ کمال ہے اہلِ نظر کے ساتھ
اک دن ملا تھا بام پہ سورج کہیں جسے
الجھے ہیں اب بھی دھوپ کے ڈورے کگر کے ساتھ
اک یاد ہے کہ دامنِ دل چھوڑتی نہیں
اک بیل ہے کہ لپٹی ہوئی ہے شجر کے ساتھ
اس مرحلے کو موت بھی کہتے ہیں دوستو
اک پل میں ٹوٹ جائیں جہاں عمر بھر کے ساتھ

میری طرح یہ صبح بھی فن کار ہے شکیبؔ
لکھتی ہے آسماں پہ غزل آبِ زر کے ساتھ​


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام