میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثناخواں نہ ہوا


14-01-2016 | احمد ندیمؔ قاسمی

میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثناخواں نہ ہوا

یہ ہے وہ جرم ، جو مجھ سے کسی عنواں نہ ہوا

اس گنہ پر مری ۔۔ اک عمر اندھیرے میں کٹی

مجھ سے اس موت کے میلے میں چراغاں نہ ہوا

کل جہاں پھول کِھلے جشن ہے زخموں کا وہاں

دل وہ گلشن ہے ۔۔۔ جو اُجڑا تو بیاباں نہ ہوا

آنکھیں کچھ اور دکھاتی ہیں ، مگر ذہن کچھ اور

باغ سنورے ۔۔۔۔ مگر احساسِ بہاراں نہ ہوا

یوں تو ہر دور میں گِرتے رہے انساں کے نرخ

ان غلاموں میں کوئی ۔۔۔ یوسفِ کنعاں نہ ہوا

میں خودآسودہ ہوں، کم کوش ہوں یا پتھر ہوں

زخم کھا کر بھی مجھے ۔۔۔ درد کا عرفاں نہ ہوا

 

ساری دنیا متلاطم ۔۔ نظر آتی ہے ندیمؔ

مجھ پہ اک طنز ہوا روزنِ زنداں نہ ہوا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
انداز ہو بہو تری آوازِ پا کا تھا
جانے یہ محّبت کیا شے تھی تڑپا بھی گئی تھپکا بھی گئی
ہجر کی رات کا انجام تو پیارا نکلا
میں وہ شاعر ہوں جو شاہوں کا ثناخواں نہ ہوا
عشق کرنے کا یہی وقت ہے ، ائے انسانو