لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے


30-04-2019 | شاہ اجملؔ فاروق ندوی

لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے

 

فضا میں نکہتِ صلِّ علی ہے

قلم قرطاس اور مدحت ہے اُن کی

 

ہمارے سر پہ رحمت کی گھٹا ہے

اجالے ہی اجالے ساتھ لے کر

 

کوئی غارِ حرا سے آرہا ہے

مدینہ منبعِ انوارِ رحمت

 

مدینہ مرکزِ رشد و ہدی ہے

محمد مصطفیؐ کی بات مانے

 

اسی میں سارے عالم کا بھلا ہے

میں بیمارِ مدینہ ہوں نہ چھیڑو

 

تڑپنے دو، تڑپنا ہی دوا ہے

کہیں میرا جنازہ دیکھ کر سب

 

نبی پر مٹنے والا جا رہا ہے

اُنہیں کوثر دیا ، معراج بخشی

 

محبت کی بھی کوئی انتہا ہے

صدا محشر میں اک گوشے سے اٹھی

 

شفاعت کرنے والا آرہا ہے

بڑے تھے نعت گو علامہ زاہد*

 

خدا بخشے مری بس یہ دعا ہے

ابوبکرؓ و عمرؓ ، عثمانؓ و حیدرؓ

 

یہاں تو نور کا اک سلسلہ ہے

​*علامہ ابوالمجاہد زاہد علیہ الرحمہ*  

ہر اک بے خود ہوا محفل میں اجملؔ

یہ تیری نعت ہے، جادو ہے، کیا ہے




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
لبوں پر ذکرِ محبوبِ خدا ہے