کر نہیں پاتے آپ کی طاعت آپ سے ہم شرمندہ ہیں

نعت| شاہ اجملؔ فاروق ندوی انتخاب| بزم سخن

کر نہیں پاتے آپ کی طاعت آپ سے ہم شرمندہ ہیں
محسنِ اعظم ، مونسِ امت! آپ سے ہم شرمندہ ہیں
آپ نے ہم کو دے کر قرآں ایک اک آیت سمجھا دی
کتنی بڑی یہ کی ہے عنایت آپ سے ہم شرمندہ ہیں
شعبِ ابی طالب میں رہنا طائف جا کر پتھر کھانا
ہائے اٹھائی کتنی زحمت آپ سے ہم شرمندہ ہیں
اچھی پاک شریعت دے کر آپ گئے اس دنیا سے
ہم نے کیا کی اس کی حالت آپ سے ہم شرمندہ ہیں
شغل ہمارا کیا ہے آقا؟ ہر دم آپ کی حکم عدولی
آپ کے لب پر امت امت آپ سے ہم شرمندہ ہیں
بدر و احد کے میداں آقا آپ کی جرأت کے ہیں گواہ
ہم پر طاری دہشت و ہیبت آپ سے ہم شرمندہ ہیں
ہم کو جو بوبکر و عمر عثمان و علی نے بخشی تھی
ہم نے گنوا دی ہے وہ عظمت آپ سے ہم شرمندہ ہیں

کہنے کو تو ہم بھی آقا آپ کی امت میں ہیں مگر
کچھ بھی نہیں ہے آپ سے نسبت آپ سے ہم شرمندہ ہیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام