طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا


05-03-2019 | رئیسؔ شاکری

طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا

اندھیروں کے گھر میں سحر کرنے والا

نقوشِ قدم جگمگائے ہیں کیا کیا

صفِ کہکشاں سے گذر کرنے والا

جہاں پاؤں رکھے ، نشاں چھوڑ آیا

بلند آسمانوں کو سر کرنے والا

پرانی چٹائی بچھونا کرے ہے

شہنشاہیاں معتبر کرنے والا

زمیں تو زمیں آسمانوں پہ قابض

فقیری کے شام و سحر کرنے والا

امیروں کو آنکھیں بچھانا سکھائے

غریبوں کی جانب نظر کرنے والا

پتہ منزلِ جاں کا پوچھو اسی سے

وہ رہزن کو بھی راہبر کرنے والا

حرا کی پہاڑی سے وہ نرم لہجہ

چٹانوں کے دل میں بھی گھر کرنے والا

 

رئیسِ سخن ہو تو نعتِ نبی میں

قلم مانگو عرضِ ہنر کرنے والا




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
طلسماتِ شب بے اثر کرنے والا
منہ سے نکلی ہوئی باتوں کا ہوا ہوجانا
لکنت جو اس نے دیکھی ہماری زبان میں
ٹوٹی پھوٹی ناؤ ہے الٹی ہوا ہے اور میں
جب سے بیٹا تبصرہ کرنے لگا