اس شہرِ نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے

غزل| دواکر راہیؔ انتخاب| بزم سخن

اس شہرِ نگاراں کی کچھ بات نرالی ہے
ہر ہاتھ میں دولت ہے ہر آنکھ سوالی ہے
شاید غمِ دوراں کا مارا کوئی آ جائے
اس واسطے ساغر میں تھوڑی سی بچالی ہے
ہم لوگوں سے یہ دنیا بدلی نہ گئی لیکن
ہم نے نئی دنیا کی بنیاد تو ڈالی ہے
اس آنکھ سے تم خود کو کس طرح چھپاؤ گے
جو آنکھ پسِ پردہ بھی دیکھنے والی ہے
جب غور سے دیکھی ہے تصویر تری میں نے
محسوس ہوا جیسے اب بولنے والی ہے
دنیا جسے کہتی ہے بے راہ روی راہیؔ
جینے کے لیے ہم نے وہ راہ نکالی ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام