اک یار روز لکھتے تھے اک مہ جبیں کو خط


21-09-2016 | ساغرؔ خیامی

اک یار روز لکھتے تھے ۔۔ اک مہ جبیں کو خط

لکھتے تھے شب کے پردے میں پردہ نشیں کو خط

پہنچے وہیں تھا ۔۔ چاہے لکھیں ۔۔ اور کہیں کو خط

دیتا تھا ۔۔۔ روز ڈاکیہ ۔۔۔ اُس نازنیں کو خط

 

آخر نتیجہ یہ ہوا ۔۔۔ اتنی بڑھی یہ بات

معشوق اُن کا بھاگ گیا ڈاکیے کے ساتھ




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
بولا دوکان دار کہ کیا چاہیے تمہیں؟
اک شام کسی بزم میں جوتے جو کھوگئے
اک یار روز لکھتے تھے اک مہ جبیں کو خط
کنٹرول کر رہی تھیں ٹریفک کا لڑکیاں
رفتہ رفتہ ہر پولس والے کو شاعر کردیا