عید قرباں اصل میں ایثار ابراہیم ہے


09-09-2016 | ابن حسؔن بھٹکلی

"عید قرباں" ، اصل میں ایثارِ ابراہیمؑ ہے

 

آج بھی زندہ وہی ۔۔۔ کردارِ ابراہیمؑ ہے

درحقیقت ۔۔ وہ خدا کے حکم کے پابند تھے

 

وہ خلیل اللہ تهے ۔۔ بیشک سعادت مند تھے

خواب میں جوکچھ بھی دیکھاسب بتایامن وعن

 

پهرکہا بیٹے سے اب قربان کردے جان  و تن

خواب خود بے تاب تھا تعبیر پانے کے لئے

 

اور اسماعیلؑ بھی ۔۔ راضی تھے آنے کے لئے

پهرہواکچھ یوں کہ دونوں باپ بیٹے چل پڑے

 

دفعتاً انوارِ رحمت کے دیئے بھی جل پڑے

ان کی خاطر تحفتاً ۔۔ جنت سے مینڈھا آ گیا

 

وہ مقدس خواب بھی ۔۔۔ تعبیر اپنی پا گیا

عقل حیراں تهی کہ کیا ہونا تھا اور یہ کیا ہوا

  مطمئن تھا دل کہ جو کچھ بھی ہوا، اچھا ہوا

اس کی حکمت کون جانے کیا اسے مقصود ہے

  وہ خدا ہے، ممتحن ہے، بس وہی معبود ہے

ذکرِ  ربانی کریں ۔۔ گهر گهر کو نورانی کریں

 

ہم پہ لازم ہے کہ ہم بے لوث قربانی کریں

اس میں کوئی شک نہیں یہ عشق کی تکمیل ہے   ہاں!۔۔ یہ قربانی خدا کے حکم کی تعمیل ہے
 

وقت دیتا ہے صدائیں باندھ لے سر سے کفن

دینِ حق پر تو بهی اب قربان جا ابن حسنؔ




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
ایسا لگتا ہے چمن میں پھر بہار آنے کو ہے
حسرتیں اتنی زیادہ ہیں کہ بس اب کیا کہیں
ہماری لغزشیں کرتی ہیں ان کی پرورش ورنہ
سب کچھ دھواں دھواں تھا مگر دیکھتے رہے
قناعت کی نظر سے بچ کے جب خواہش نکلتی ہے