فراغِ صبر و ثباتِ قدم کے دیوانے

رشیدؔ کوثر فاروقی
فراغِ صبر و ثباتِ قدم کے دیوانے
خدا کرے کہ تو نصرت کا وقت پہچانے
سپردگی کا نہ سمجھا مقام دنیا نے
ہوئے ہیں شمع کے پہلو میں دفن پروانے
وہ ہم تھے جس نے تمہارے رموز پہچانے
وگر نہ حسن کی قیمت حسین کیا جانے
ہوا کے رخ پہ سفینے کا رخ معاذ اللہ
ہے کس مرض کی دوا ناخدا خدا جانے
کسے یہ سان و گماں تھا دمِ صنم شکنی
کہ چھاپے جائیں گے خونِ حرم سے بت خانے
یہ جن کی مے ہے یہ جن سے ہے نام ساقی کا
غضب غضب انہیں پیاسوں پہ بند میخانے
چکور چاند سے آگے کبھی نہ دیکھ سکا
جو حد پرست ہو وسعت کا راز کیا جانے
مظاہرے پہ غلط ہے مشاہدے کا قیاس
کہو نظر سے کہ دل کا مزاج پہچانے

میں اپنا زاویۂ فکر پیش کرتا ہوں
مرا نصیب جو کوثرؔ کوئی برا مانے

پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام