لے گئی دہر کو جب زر کی ضیا اور طرف


05-05-2016 | دانیال طریرؔ

لے گئی دہر کو جب زر کی ضیا اور طرف

میں چلا لے کے دیا ۔۔ اور دعا اور طرف

میں کسی اور طرف ۔۔۔ بھیج رہا تھا لیکن

لے گئی سانس کے پنچھی کو ہوا اور طرف

اور قریے میں لگی تھی مرے اظہار کو چپ

ڈھونڈنے نکلا ہوں میں اپنی صدا اور طرف

خواب اک اور طرف کھینچ رہے تھے مجھ کو

غیب کا ہاتھ مجھے لے کے چلا اور طرف

اس کو لا حاصلیٔ ذات کہوں ۔۔ یا حاصل

میرے اندر جو چھپا تھا وہ ملا اور طرف

ایک سفر، ایک خلا، ایک طرف ختم ہوا

اب کوئی اور سفر ، اور خلا ، اور طرف

 

کیسی کیسی نہ کشش تھی پہ دلِ آزردہ

ایک رستے پہ رہا یہ نہ گیا اور طرف




پچھلا صفحہ | اگلا صفحہ



شاعر کا مزید کلام
جو شک رہا بھی تو کیا جو یقیں رہا بھی تو کیا
لے گئی دہر کو جب زر کی ضیا اور طرف