کرتا ہے قتلِ عام وہ اغیار کے لئے

غزل| مومن خاں مومنؔ انتخاب| حنظلہ سید

کرتا ہے قتلِ عام وہ اغیار کے لئے
دس بیس روز مرتے ہیں دو چار کے لئے
دیکھا عذاب رنجِ دلِ زار کے لئے
عاشق ہوئے ہیں وہ مرے آزار کے لئے
دل عشق تیرے نذر کیا جان کیونکہ دوں
رکھا ہے اس کو حسرتِ دیدار کے لئے
قتل اس نے جرمِ صبرِ جفا پر کیا مجھے
یہ ہی سزا تھی ایسے گنہ گار کے لئے
لے تو ہی بھیج دے کوئی پیغام تلخ اب
تجویز زہر ہے ترے بیمار کے لئے
آتا نہیں ہے تو تو نشانی ہی بھیج دے
تسکینِ اضطرابِ دلِ زار کے لئے
کیا دل دیا تھا اس لئے میں نے تمہیں کہ تم
ہو جاؤ یوں عدو مرے اغیار کے لئے
چلنا تو دیکھنا کہ قیامت نے بھی قدم
طرزِ خرام و شوخیٔ رفتار کے لئے
جی میں ہے موتیوں کی لڑی اس کو بھیج دوں
اظہارِ حالِ چشمِ گہر بار کے لئے
دیتا ہوں اپنے لب کو بھی گلبرگ سے مثال
بوسے جو خواب میں ترے رخسار کے لئے
جینا امیدِ وصل پہ ہجراں میں سہل تھا
مرتا ہوں زندگانیٔ دشوار کے لئے
مومنؔ کو تو نہ لائے کہیں دام میں وہ بت
ڈھونڈے ہے تار سبحہ کے زنار کے لئے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام