جنوں کا رقص تو ہر انجمن میں جاری ہے

غزل| اعجازؔ رحمانی انتخاب| بزم سخن

جنوں کا رقص تو ہر انجمن میں جاری ہے
فرازِ دار پہ لیکن سکوت طاری ہے
مزید عرضِ تمنا کا حوصلہ کاحوصلہ ہے کسے
ابھی تو پہلی نوازش کا زخم کاری ہے
یہ رنگ و نور کی بارش یہ خوشبووں کا سفر
ہمارے خون کی تحریک ہی سے جاری ہے
نصیب سایۂ گل ہے جنہیں وہ کیا جانیں
ہمارے پاؤں کی زنجیر کتنی بھاری ہے
سحر کو رنگ ملا ہے اسی کے صدقہ میں
ستونِ دار پہ ہم نے جو شب گذاری ہے
ہمیں نے کل بھی بچایا تھا شیش محلو ں کو
ہمیں پہ آج بھی الزامِ سنگ باری ہے
کسی کو پرسشِ احوال کی نہیں فرصت
وہ کون ہے جسے احساسِ غم گساری ہے
جگائیں سوئی ہوئی اپنی قوم کو اعجازؔ
تمام اہلِ قلم کی یہ ذمہ داری ہے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام