ہم بندۂ حسن و عشق سہی ایسا بھی کوئی وقت آتا ہے

غزل| شان الحق حقیؔ انتخاب| بزم سخن

ہم بندۂ حسن و عشق سہی ایسا بھی کوئی وقت آتا ہے
جب حسن سے دقت ہوتی ہے جب عشق سے جی گھبراتا ہے
آنکھوں کے سفینے ہیچ سہی کچھ گوہر ڈھونڈ ہی لائے ہیں
غم مایۂ یک عالم ہے مگر پہلو میں سمٹ ہی آتا ہے
وہ رس تو ہوائیں پی بھی گئیں وہ رنگ تو کرنیں چاٹ گئیں
وہ شکل کہاں چھپ جاتی ہے وہ روپ کہاں کھو جاتا ہے
پوچھیں جو کوئی غمخوار ملے سمجھیں جو کوئی بیمار ملے
ہم جس کو غمِ دل کہتے ہیں اُس دیس میں کیا کہلاتا ہے

ساحل پہ جو ایک تحریر سی ہے اس گیت کی ایک تصویر سہی
جو گیت کہ دل موجوں سے کبھی آواز ملا کر گاتا ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام