ابھری سخی کا شکل بھکاری کی آنکھ میں

غزل| عدیمؔ ہاشمی انتخاب| بزم سخن

ابھری سخی کا شکل بھکاری کی آنکھ میں
پنچھی کا عکس جیسے شکاری کی آنکھ میں
بیٹھا ہے باز ہاتھ پہ چڑیا لئے ہوئے
کیسی چمک ہے راجکماری کی آنکھ میں
وہ تو خدا ہے اس کا تو درجہ ہی اور ہے
پتھر بھی دیوتا ہے پجاری کی آنکھ میں
اچھا برا تو سب ہے توازن کے واسطے
کردار سب ہیں ایک لکھاری کی آنکھ میں
کوئی بہت بڑی ہی خوشی پائی ہےعدیؔم
بھالو سے ناچتے ہیں مداری کی آنکھ میں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام