دل عشق میں ہوتا ہے مائل بہ فغاں پہلے

غزل| فناؔ نظامی کانپوری انتخاب| بزم سخن

دل عشق میں ہوتا ہے مائل بہ فغاں پہلے
جب آگ سلگتی ہے اٹھتا ہے دھواں پہلے
اظہارِ تمنا سے حسن اور نکھر آیا
تھی ان کی اداؤں میں یہ بات کہاں پہلے
تنقیدِ گلستاں کا حق ہے مرے ہونٹوں کو
میں نے ہی قفس میں بھی کھولی تھی زباں پہلے
ہر ظرف کے میکش ہیں ہر کیف کی صہبا ہے
اس واسطے پیتا ہے خود پیرِ مغاں پہلے
ہم اپنے نشیمن کے انجام سے واقف ہیں
یا برقِ تپاں آخر یا برقِ تپاں پہلے
ابرو پہ بل آتے ہی ہوتی ہے نظر برہم
جب تیر نکلتا ہے کھنچتی ہے کماں پہلے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام