جو اتر کے زینۂ شام سے تری چشمِ تر میں سما گئے

غزل| امجد اسلام امجدؔ انتخاب| قتیبہ جمال

جو اتر کے زینۂ شام سے تری چشمِ تر میں سما گئے
وہی جلتے بجھتے چراغ سے مرے بام و در کو سجا گئے
یہ جو عاشقی کا ہے سلسلہ ہے یہ اصل میں کوئی معجزہ
کہ جو لفظ میرے گماں میں تھے وہ تری زبان پہ آ گئے
وہ جو گیت تم نے سنا نہیں مری عمر بھر کا ریاض تھا
مرے درد کی تھی وہ داستاں جِسے تم ہنسی میں اڑا گئے
وہ چراغِ جاں کبھی جس کی لو نہ کسی ہوا سے نگوں ہوئی
تری بے وفائی کے وسوسے اسے چپکے چپکے بجھا گئے
وہ تھا چاند شامِ وصال کا کہ تھا روپ تیرے جمال کا
مری روح سے مری آنکھ تک کسی روشنی میں نہا گئے
یہ جو بندگانِ نیاز ہیں یہ تمام ہیں وہی لشکری
جنھیں زندگی نے اماں نہ دی تو ترے حضور میں آ گئے
تری بے رخی کے دیار میں میں ہوا کے ساتھ ہوا ہوا
ترے آئینے کی تلاش میں مرے خواب چہرا گنوا گئے
ترے وسوسوں کے فشار میں ترا شہرِ رنگ اجڑ گیا
مری خواہشوں کے غبار میں مرے ماہ وسالِ وفا گئے
وہ عجیب پھول سے لفظ تھے ترے ہونٹ جن سے مہک اٹھے
مرے دشتِ خواب میں دور تک کوئی باغ جیسے لگا گئے
مری عمر سے نہ سمٹ سکے مرے دل میں اتنے سوال تھے
ترے پاس جتنے جواب تھے تری اک نگاہ میں آ گئے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام