مجھے بھی وحشتِ صحرا پکار میں بھی ہوں

غزل| اسعدؔ بدایونی انتخاب| بزم سخن

مجھے بھی وحشتِ صحرا پکار میں بھی ہوں
ترے وصال کا امیدوار میں بھی ہوں
پرند کیوں مری شاخوں سے خوف کھاتے ہیں
کہ اک درخت ہوں اور سایہ دار میں بھی ہوں
مجھے بھی حکم ملے جان سے گزرنے کا
میں انتظار میں ہوں شہسوار میں بھی ہوں
بہت سے نیزے یہاں خود مری تلاش میں ہیں
یہ دشت جس میں برائے شکار میں بھی ہوں

ہوا چلے تو لرزتی ہے میری لو کتنی
میں اک چراغ ہوں اور بے قرار میں بھی ہوں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام