آپلے پاؤں میں شوریدگی سر میں رکھئے

غزل| مظفرؔ حنفی انتخاب| بزم سخن

آپلے پاؤں میں شوریدگی سر میں رکھئے
کیا ضروری ہے قدم راہِ سفر میں رکھئے
کوئی دیوار سلامت نہ رہے گی صاحب
پا بہ زنجیر ہواؤں کو نہ گھر میں رکھئے
سبز پتے بھی نہ اڑ جائیں کہیں شاخوں سے
سر پھرے تند بگولے کو نظر میں رکھئے
بک چکا سارا لہو نوکِ قلم کے ہاتھوں
کس لئے قطرۂ خوں دیدۂ تر میں رکھئے
پیش کرتا ہوں اگر پھول ستارے جگنو
سنگ ریزے ہی مرے دستِ ہنر میں رکھئے
جانے بچتی ہے کہ مرتی ہے مظفرؔ اردو
چند نسلوں کو اسی خوف و خطر میں رکھئے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام