ہم مسافر یوں ہی مصروفِ سفر جائیں گے

غزل| فیض احمد فیضؔ انتخاب| بزم سخن

ہم مسافر یوں ہی مصروفِ سفر جائیں گے
بے نشاں ہوگئے جب شہر تو گھر جائیں گے
کس قدر ہوگا یہاں مہر و وفا کا ماتم
ہم تری یاد سے جس روز اتر جائیں گے
جوہری بند کئے جاتے ہیں بازارِ سخن
ہم کسے بیچنے الماس و گہر جائیں گے
نعمتِ زیست کا یہ قرض چکے گا کیسے
لاکھ گھبرا کے یہ کہتے رہیں مر جائیں گے
شاید اپنا بھی کوئی بیت حدی خواں بن کر
ساتھ جائے گا مرے یار جدھر جائیں گے
فیضؔ آتے ہیں رہ عشق میں جو سخت مقام
آنے والوں سے کہو ہم تو گزر جائیں گے



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام