جام چلنے لگے دل مچلنے لگے چہرے چہرے پہ رنگِ شراب آ گیا

غزل| سعید راہیؔ انتخاب| بزم سخن

جام چلنے لگے دل مچلنے لگے چہرے چہرے پہ رنگِ شراب آ گیا
بات کچھ بھی نہ تھی بات اتنی ہوئی آج محفل میں وہ بے نقاب آ گیا
دل کشی کیا کہیں نازکی کیا کہیں تازگی کیا کہیں زندگی کیا کہیں
ہاتھ میں ہاتھ اس کا وہ ایسے لگا جیسے ہاتھوں میں کوئی گلاب آ گیا
حُسن والے! تری بات رکھنی پڑی آ گئی امتحاں کی وہ آخر گھڑی
پوچھ لے پوچھ لے آئینہ ہی تو ہے دیکھ لے آج تیرا جواب آ گیا
نام اپنا کہیں پر لکھا تو نہیں بس اسی بات کا آج کر لیں یقیں
آؤ راہیؔ ذرا پوچھ کر دیکھ لیں اپنے دل کی وہ کھولے کتاب آ گیا



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام