ویسے تو دل کے زخم سبھی کو دکھا دیئے

غزل| عقیلؔ عباس جعفری انتخاب| بزم سخن

ویسے تو دل کے زخم سبھی کو دکھا دیئے
اس نے جو حال پوچھا تو ہم مسکرا دئیے
وہ رات کیا عجب تھی کہ بجھتے ہی اک چراغ
اک خیمہ گہ میں چہرے سبھی جگمگا دیئے
اس نے جو دل کا راستہ وا ہم پہ کر دیا
ہم نے بھی واپسی کے سفینے جلا دیئے
ہم نے جو اس سے پوچھا سبب بے وفائی کا
اس نے ہمارے شعر ہمیں کو سنا دیئے
سبط علی صباؔ کا یہ مصرع بھی خوب تھا
یاروں نے جس میں پھول سخن کے کھلا دیئے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام