چھوڑ کر پیڑوں کی چھاؤں اب کہاں تو جائے گا

غزل| پرکاش فکریؔ انتخاب| بزم سخن

چھوڑ کر پیڑوں کی چھاؤں اب کہاں تو جائے گا
دور تک بنجر زمیں ہے دیکھنا پچھتائے گا
گھر کے بادل جب بھی برسیں گے اندھیری رات کے
غم پناہیں ڈھونڈنے کو بستیوں میں آئے گا
اپنے ہی سائے سے ڈر کے لوگ جب چھپنے لگے
راستہ پھر خامشی کے درد سے چلائے گا
سارے منظر اجلی اجلی دھند میں کھو جائیں گے
پربتوں پر برف ہوگی اور کہرا چھائے گا

اپنی آنکھوں میں سمو لیں رنگ یہ فکریؔ تمام
کیا پتہ ہے کب یہ موسم لوٹ کر پھر آئے گا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام