الم ہے اپنا مقدّر جہاں جہاں جائیں

عبد العلیم شاہینؔ
الم ہے اپنا مقدّر جہاں جہاں جائیں
نشاط ڈھونڈنے ائے زندگی کہاں جائیں
پڑے رہیں گے یوں ساحل کی ریت پر کب تک
اٹھو کہ بحر کی موجوں کے درمیاں جائیں
ملے گا کون ہمیں ان کو پوچھنے والا
کیوں اپنے اشکوں کو لے کر یہاں وہاں جائیں
ان ہی کی وجہ سے پامال ہے چمن کی بہار
چمن کو چھوڑ کے بہتر ہے باغباں جائیں
ہمارے بعد بھی گزریں گے اس طرف سے لوگ
تو کیوں نہ چھوڑ کے قدموں کے کچھ نشاں جائیں
زَمین پر ٹھہر کے صدیاں گزر گئیں شاہیںؔ
افق کے پار چلیں سوئے کہکشاں جائیں


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام