یا محمد(ﷺ)! آپ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس

نعت| عبد العلیم شاہینؔ انتخاب| بزم سخن

یا محمد(ﷺ)! آپ کی کچھ ایسی یاد آئی کہ بس
میری روحِ مضطرب نے وہ خوشی پائی کہ بس
گونج اُٹھا جب فضا میں نغمۂ صلِّ علی
رحمتوں کی ہر طرف ایسی گھٹا چھائی کہ بس
فرش پر مخلوق ساری سوچتے ہی رہ گئی
عرش پر اُن کی ہوئی ایسی پذیرائی کہ بس
دے نہ پایا منزلِ مقصود کوئی راہبر
سرورِ کونین نے وہ راہ دِکھلائی کہ بس
جاں نثارانِ نبی چمکے ستاروں کی طرح
دشمنوں نےآپ کے دیکھی وہ رسوائی کہ بس
سوئے طیبہ جا رہے تھے عاشقوں کے قافلے
دیکھ کر اُن کو طبیعت ایسے للچائی کہ بس
چلتے پھرتے بیٹھتے اٹھتے زبانوں پر درود
امّتی اس قدر ہیں آقا کے شیدائی کہ بس
نعت ہونٹوں پر نظر میں روضۂ خیر الوری
خلوتوں میں شب کی ہے وہ بزم آرائی کہ بس
دامنِ رحمت شفیع المذنبیں کا ہو نصیب
ورنہ روزِ حشر ہوگی ایسی رسوائی کہ بس

کوہِ فاراں سے چلی جس دم نسیمِ لا الہ
گلشنِ ہستی میں شاہیںؔ وہ بہار آئی کہ بس


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام