عشق کی فطرت ازل سے حسن کی منزل میں ہے

اصغرؔ گونڈوی
عشق کی فطرت ازل سے حسن کی منزل میں ہے
قیس بھی محمل میں ہے لیلیٰ اگر محمل میں ہے
جستجو ہے زندگی ذوقِ طلب ہے زندگی
زندگی کا راز لیکن دورئ منزل میں ہے
لالہ و گل تم نہیں ہو ماہ و انجم تم نہیں!
رنگِ محفل بن کے لیکن کون اس محفل میں ہے
اس چمن میں آگ برسے گی کہ آئے گی بہار
اک لہو کی بوند کیوں ہنگامہ آرا دل میں ہے
اٹھ رہی ہے مٹ رہی ہے موجِ دریائے وجود
اور کچھ ذوقِ طلب میں ہے نہ کچھ منزل میں ہے
طور پہ لہرا کے جس نے پھونک ڈالا طور کو!
اک شرارِ شوق بن کر میرے آب و گل میں ہے
محو ہو کر رہ گئی جو ہے وہی راہِ طریق
جو قدم مستانہ پڑتا ہے وہی منزل میں ہے
ہو کے رازِعشق افشا بن گیا اِک راز دار
سب زباں پر آ چکا ہے سب ابھی تک دل میں ہے
عرش تک تو لے گیا تھا ساتھ اپنے حسن کو
پھر نہیں معلوم اب خودعشق کس منزل میں ہے
اصغرِؔ افسردہ ہے محرومِ موجِ زندگی!
تو نوائے روح پرور بن کے کس محفل میں ہے


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام