ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ

غزل| حمایت علی شاعرؔ انتخاب| بزم سخن

ہر قدم پر نت نئے سانچے میں ڈھل جاتے ہیں لوگ
دیکھتے ہی دیکھتے کتنے بدل جاتے ہیں لوگ
کس لئے کیجے کسی گم گشتہ جنت کی تلاش
جب کہ مٹی کے کھلونوں سے بہل جاتے ہیں لوگ
کتنے سادہ دل ہیں اب بھی سن کے آوازِ جرس
پیش و پس سے بے خبر گھر سے نکل جاتے ہیں لوگ
اپنے اپنے سائے سر نہوڑائے آہستہ خرام
جانے کس منزل کی جانب آج کل جاتے ہیں لوگ
شمع کے مانند اہلِ انجمن سے بے نیاز
اکثر اپنی آگ میں چپ چاپ جل جاتے ہیں لوگ
شاعرؔ ان کی دوستی کا اب بھی دم بھرتے ہیں آپ
ٹھوکریں کھا کر تو سنتے ہیں سنبھل جاتے ہیں لوگ



پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام