آنکھ دل کی شورشوں پر جائے کیا؟

غزل| آغا شاعرؔ قزلباش دہلوی انتخاب| بزم سخن

آنکھ دل کی شورشوں پر جائے کیا؟
کرنی بھرنی ہے پھر اب پچتائے کیا؟
نبض دیکھی ، حال پوچھا ، اٹھ چلے
بیٹھئے صاحب ، بھلا یہ آئے کیا؟
نیل کیسے ہیں گلِ رخسار پر؟
آپ نے بھی خیر سے گل کھائے کیا؟
شیشۂ دل کے ہیں ٹکڑے راہ میں
دم لبوں تک آئے کیا اور جائے کیا؟
پاؤں ٹکتا ہی نہیں شاعرؔ کہیں
ایسے وحشی کو کوئی سمجھائے کیا؟


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام