روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام

غزل| حسرتؔ موہانی انتخاب| بزم سخن

روشن جمالِ یار سے ہے انجمن تمام
دہکا ہوا ہے آتش گل سے چمن تمام
حیرت غرور حسن سے شوخی سے اضطراب
دل نے بھی تیرے سیکھ لیے ہیں چلن تمام
اللہ رے جسمِ یار کی خوبی کہ خود بخود
رنگینیوں میں ڈوب گیا پیرہن تمام
دل خون ہو چکا ہے جگر ہو چکا ہے خاک
باقی ہوں میں مجھے بھی کر اے تیغ زن تمام
دیکھو تو چشمِ یار کی جادو نگاہیاں
بے ہوش اک نظر میں ہوئی انجمن تمام
ہے نازِ حسن سے جو فروزاں جبینِ یارِ
لبریز آبِ نور ہے چاہ ذقن تمام
نشو و نمائے سبزہ و گل سے بہار میں
شادابیوں نے گھیر لیا ہے چمن تمام
اس نازنیں نے جب سے کیا ہے وہاں قیام
گلزار بن گئی ہے زمینِ دکن تمامِ
اچھا ہے اہلِ جور کیے جائیں سختیاں
پھیلے گی یوں ہی شورشِ حب وطن تمام
سمجھے ہیں اہلِ شرق کو شاید قریبِ مرگِ
مغرب کے یوں ہیں جمع یہ زاغ و زغن تمام

شیرینئ نسیم ہے سوز و گداز میرؔ
حسرتؔ ترے سخن پہ ہے لطفِ سخن تمام


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام