دیکھنے والی کسی کی آنکھ کہلائی تو کیا

غزل| کوثرؔ جعفری انتخاب| بزم سخن

دیکھنے والی کسی کی آنکھ کہلائی تو کیا
جس نے پہچانا نہ خود کو وہ نظر پائی تو کیا
حُسن کہتے ہیں اسے جو دل نشین ہو کر رہے
ایسے ویسی شکل گر آنکھوں نے دکھلائی تو کیا
غیرت قومی کا جذبہ بھی تو کچھ دل میں رہے
کوئی دوشیزہ اگر آنکھوں سے شرمائی تو کیا
اس جہاں میں کس کا دامن پاك ہے اس داغ سے
عشق میں اپنی بھی یارو ہوگی رسوائی تو کیا
غیر جانب دار بہتر ایسے جانب دار سے
دل تو ہے سینے میں ساکت آنکھ بھر ائی تو کیا
ہر منافق کا ہے دنیا میں یہی طور و طریق
بارہا اللہ کی اس نے قسم کھائی تو کیا

اپنی ہستی سے ہی تو پیار کرنا ہے بہت
کوئی اے کوثرؔ کسی کا ہو تمنائی تو کیا


پچھلا کلام | اگلا کلام

شاعر کا مزید کلام